Welcome, visitor! [ Register | LoginRSS Feed  |   | 

Darul ‘Uloom Karachi

  • Listed: August 26, 2016 10:03 am
Darul ‘Uloom Karachi

Description

تعارف جامعہ دارالعلوم کراچی

کراچی میں دارالعلوم کا قیام
ہجرت پاکستان کے بعد فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے دو کاموں کو اپنا مقصد زندگی بنالیا تھا۔ ایک پاکستان میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ کے لئے جدوجہد، دوسرے کراچی میں یہاں کے شایان شان دارالعلوم کا قیام۔
ابتدائی دوسال تو قرارداد مقاصد اور اسلامی دستور کی جدوجہد (جو انتہائی بے سروسامانی کے ساتھ ہورہی تھی) میں اتنی مشغولیت رہی کہ دارالعلوم کے قیام میں کامیابی نہ ہوسکی۔
کراچی جو قیام پاکستان کے وقت پاکستان کا دارالحکومت ہونے کے علاوہ لاکھوں مسلمانوں کی عظیم آبادی کا شہر تھا، اس میں کوئی ایسا مرکزنہ تھا جو یہاں کی دینی ضروریات کی کفالت کرسکے، اس لئے شدید ضرورت تھی کہ یہاں کوئی ایسا مرکز قائم ہو۔ چنانچہ مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نوراللہ مرقدہ نے نہایت بے سروسامانی کے عالم میں محض توکلاًعلی اللہ، صرف دو اساتذہ اور چند طلباء سے محلہ نانک واڑہ میں ایک پرانے اسکول کی بلڈنگ میں ایک مدرسہ اسلامیہ قائم فرمادیا۔ جس کا نام دارالعلوم کراچی قرار پایا۔ یہ دارالعلوم شوال ۱۳۷۰؁ھ مطابق جون ۱۹۵۱؁ء میں قائم ہوا۔
دارالعلوم کے قیام کے بعد پاکستان کے تمام صوبوں اور اضلاع سے طلباء جمع ہوگئے مزید برآں، ہندوستان، برما، انڈونیشیا، ملائشیا، افغانستان، ایران، ترکی وغیرہ اسلامی ممالک سے طلباء کا رجوع ہوا، جس سے بحمداللہ دارالعلوم کراچی نے بہت قلیل عرصہ میں عالم اسلام میں دین کے مضبوط قلعہ کی حیثیت اختیار کرلی جو دیکھتے ہی دیکھتے طلباء ِعلوم نبوت اور داعیان دین کا مرکز بن گیا۔ اور بظاہر ایک بڑی عمارت بھی طلبہ کی کثرت سے آمد کے سبب تنگ محسوس ہونے لگی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور حضرت مفتی صاحب قدس سرہ کی مسلسل دعائوں اور ان کے جذبۂ صادقہ کی بدولت کورنگی میں چھپن (۵۶) ایکڑ کا وسیع رقبۂ زمین مع ایک دو منزلہ عمارت اور پختہ کنویں اور ڈیزل انجن وغیرہ کے، جناب حاجی ابراہم دادابھائی مقیم جنوبی افریقہ نے لوجہ اللہ دارالعلوم کے لئے وقف فرمادیا۔ شکراللہ سعیہ و جزاہ فی الدارین خیر الجزاء
اس زمین پر جناب حاجی عبداللطیف صاحب باوانی مرحوم نے ایک لاکھ روپیہ خود اپنی ذات اور خاندان سے اور اٹھاون ہزار روپے اپنے حلقۂ احباب سے فراہم کرکے تعمیر پر خرچ کئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو دارین کی جزائے خیر عطا فرمائے۔ چنانچہ ۱۵شعبان ۱۳۷۶؁ھ مطابق ۱۷ مارچ ۱۹۵۷؁ء کو دارالعلوم، کورنگی کی موجودہ عمارات میں منتقل ہوگیا اور نانک واڑہ میں حفظ ناظرہ اور تجوید و قرات کے شعبے باقی رہ گئے۔
جامعہ دارالعلوم کراچی، پاکستان میں علوم دینیہ کا عظیم مرکز ہے، یہی وہ دارالعلوم ہے جس نے ہزاروں علمائ، فضلا، محدث ،مفسر، فقیہ و ادیب، قاضی و مفتی، زہّاد واتقیاء، سرفروش مجاہدین اور مبلغین اسلام کی جماعتیں تیار کرکے ہر لمحہ دین کی حفاظت و اشاعت میں نمایاں حصہ لیا، یہ مرکزِ علم و حکمت اس مادی دنیا میں ایک روشن مینار ہے جس کی شعاعیں اکناف عالم میں پھیل رہی ہیں۔ والحمدﷲ علیٰ ذلک۔

محمد رفیع عثمانی
جامعہ دارالعلوم کراچی

نصابِ تعلیم پر ایک نظر

جامعہ ہذا میں تعلیم کا کل دورانیہ(Period) اٹھارہ (۱۸) سال ہے، جس کا اجمالی خاکہ درج ذیل ہے:

۱۔ ابتدائیہ (Primary Stage) ۵سال
۲۔ متوسطہ (Secondary Stage) ۳سال
۳۔ عامہ (Middle Stage) ۲سال
۴۔ خاصہ (Intermediate Stage) ۲سال
۵۔ عالیہ (Graduation Stage) ۲سال
۶۔ عالمیہ (Post Graduation Stage) ۲سال

نوٹ: درس نظامی کے اٹھارہ سالہ تعلیمی دورانیہ کی تکمیل کے بعد تخصصات کے بھی تین شعبہ جات قائم ہیں:

۱۔ تخصص فی الافتاء ۳سال
۲۔ تخصص فی الدعوۃ والارشاد ۲سال
۳۔ تخصص فی القراء ات ۲سال

’’تخصص فی الافتاء‘‘ میں محدود تعداد میں عمدہ صلاحیت رکھنے والے فضلائِ درسِ نظامی کو داخلہ دیاجاتاہے اور اس دورانیہ میں انہیں شرعی اور فقہی مآخذ سے استفادہ کرنے اور فقہی مسائل کی تحقیق کی تربیت دی جاتی ہے، تیسرا سال علمی تحقیقی مقالے کی تیاری کے لئے مختص ہے۔

دیگر دو تخصصات کے لئے بھی جامع نصاب ترتیب دیا گیا ہے جس سے معقول تعداد میں طلبہ استفادہ کرتے ہیں۔

Ad Reference ID: 81357bfcd8745456

No Tags

1607 total views, 1 today

  

Leave a Reply